
✦ سن 1970ء سے سن 1980ء کی دہائی کے مابین ثانوی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بالاپور اور اطراف و اکناف کے اردو زبان کے طلبہ کے لیے انجمن انوار الاسلام اردو ہائی اسکول میں داخلہ انکی پہلی پسند ہوا کرتی تھی۔
✦ ماضی کے اس دور میں بالاپور کے مسلم شہریان سے مراد یہاں کی غریب اور محنت کش عوام، دانشمند حضرات، متوسط طبقے کے لوگ، ان سب نے مل کر اپنے خون، پسینے اور محنت کی کمائی سے، گھر گھر، گلی گلی، بازاروں اور شادیوں کی تقاریب سے اس زمانے کے آنے، پیسے اکٹھے کرکے اس تعلیمی ادارے کو پروان چڑھایا تھا۔
✦ مزید یہ کہ معیاری تعلیم کے مقصد کے شانہ بشانہ نسل نو کے تابناک مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جمہوری طرز پر انجمن کا نظم و نسق قائم کیا گیا تھا۔
✦ اس وقت حکومت کی جانب سے اسکول کو درکار سہولیات (انفرااسٹرکچر) کے لیے آج کی طرح بھرپور مالی امداد نہیں ملتی تھی۔
✦ تقریباً سنہ 1954/55 عیسوی میں قائم شدہ اس ادارے میں جمہوری طرز پر ہر محلے سے کچھ افراد انجمن کی چار آنے کی رسید حاصل کرتے، اور اپنے محلے کی نمائندگی کے لیے انجمن ٹرسٹ میں مخصوص مدت کے لیے اپنا نمائندہ منتخب کرکے بھیجا کرتے تھے۔
✦ معینہ مدت تک یہ نمائندہ ادارے کی سرگرمیوں میں اپنی خدمات پیش کرتا تھا۔ نمائندگی کا عرصہ ختم ہونے کے بعد پورے شہر میں پھر وہی عمل دہرایا جاتا تھا اور مناسب افراد نمائندگی کے لیے منتخب کیے جاتے تھے۔
✦ شہر کے چند سرگرم، ملت کا درد رکھنے والے اور سخاوت مند، فیاض قسم کے افراد ٹرسٹ میں تاعمر رکنیت (لائف ممبرشپ) کے حامل تھے۔ بالاپور کے باشندوں میں تحمل، جذبۂ احترام اور روایتوں کی پاسداری کے اوصاف بدرجہ اتم موجود ہیں۔
✦ اسی تناظر میں مسٹر ناطق خطیب کے والد مرحوم حسام الدین خطیب کو انجمن میں شمولیت اور ابتداء میں صدارت کا اعزاز بخشا گیا ہوگا، ورنہ ادارے کی تعمیر و ترقی میں مرحوم کا نیز مسٹر حمید وکیل کے والد ان صاحبان کا عملی سرگرمی، قربانی یا مالی اعانت کے حوالے سے کوئی کردار بالکل بھی نظر نہیں آتا ہے۔
✦ اس کے برخلاف کم و بیش چار، پانچ دہائیاں قبل مسٹر ناطق الدین اور مسٹر حمید الدین ٹرسٹ کے دستور میں موجود اسی جمہوری طرز پر محلے (وارڈ) سے مخصوص مدت کے لیے عارضی رکن کی حیثیت سے ادارے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
✦ پھر نگرپریشد کا اقتدار، بالاپور کی سیاست پر بالادستی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت چالاکی سے انجمن ٹرسٹ کی (مستقل) تاعمر رکنیت حاصل کرلی۔
✦ ٹرسٹ میں داخلہ، مضبوط گرفت اور بالادستی حاصل کرلینے کے بعد آہستہ آہستہ ٹرسٹ کے جمہوری طرز پر مرتب کردہ دستور (آئین) کو تبدیل کروالیا۔
✦ اس طرح بالاپور کے عام مسلمانوں سے شہر کے ہر گوشے اور محلے سے منتخب ہوکر ادارے میں نمائندگی کرنے کا حق چھین لیا گیا۔
✦ ٹرسٹ میں لائف ممبرز کی تعداد کو محدود کردیا گیا۔ تاحیات ادارے پر خود کا قبضہ قائم رہے اور ٹرسٹ اپنے بعد اپنے ہی بیٹے کے قبضے میں رہے اس کے لیے ٹرسٹ میں ترمیم شدہ محدود مستقل اراکین کی نشستوں پر اپنے زیرِ اثر چند مخصوص افراد کو شامل کرنے کا کام کیا گیا۔
✦ اس طرح انجمن انوار الاسلام ٹرسٹ میں جمہوری طرز کو ختم کرکے ادارے سے عوامی رشتے کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔
✦ انجمن انوار الاسلام ٹرسٹ اور اسکول کی تعمیر اپنے بزرگوں نے کی ہوئی ہے، اس کی اسکولیں اپنی ہیں، اس تصور کو مسلمانوں کی نئی نسل کے دماغوں سے یکسر مٹا دیا گیا۔
✦ اس طرح موروثی نظام حکمرانی کو زندہ رکھنے والی فکر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی۔
✦ جناب حمید وکیل تاحیات انجمن کے صدر بنے رہے۔ اس کے بعد جناب ناطق خطیب نے قانونی چارہ جوئی کی خانہ پری کرکے اپنے بیٹے کو انجمن کا صدر بنا دیا۔
✦ در اصل انجمن ٹرسٹ پر خطیب صاحب کے قبضہ کرنے سے پہلے انجمن انوار الاسلام اردو ہائی اسکول کی تعلیمی پیش رفت تابناک مستقبل کی طرف گامزن تھی۔
✦ تعلیمی معیار کو بلند رکھنے کے لیے ہونہار، ذہین، اور محنتی قسم کے اساتذہ کی تقرری کی طرف بہت زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔
✦ اساتذہ سے وصول کی جانے والی مالی اعانت (ڈونیشن) کے تصور کا وجود بھی نہیں تھا۔
✦ معاشی اعتبار سے ضلعی سطح پر انجمن ٹرسٹ اچھی (قابلِ ذکر) حالت میں تھا۔
✦ نہ صرف ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اسکولیں بلکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے، سینیئر کالج (آرٹس، سائنس، کامرس)، انجینئرنگ، فارمیسی اور میڈیکل وغیرہ جیسے کالجز کی شروعات کرنا انجمن کے منتظمین کے عزائم میں شامل تھا۔
✦ لیکن جناب ناطق خطیب نے ٹرسٹ پر قبضہ حاصل کرلینے کے بعد نہ صرف جمہوری نظام اور طریقۂ کار کو نیست و نابود کیا بلکہ اسکول کے تعلیمی معیار کو بھی تہس نہس کرکے مٹی میں ملا دیا۔
✦ اس کے علاوہ اپنی سیاسی طاقت اور اقتدار کا استعمال کرتے ہوئے یہ حکمت عملی اپنائی کہ شہر میں کوئی دوسرا گروہ معیاری تعلیم کے ادارے قائم نہ کر پائے تاکہ عوام میں بیداری نہ آجائے۔
✦ انہوں نے قبضہ کرنے کے بعد گذشتہ تین چار دہائیوں کے درمیان بعض کام چور، نااہل، تدریس کے علاوہ دیگر تجارتی کاروبار کرنے والوں کو نگر پریشد الیکشن کے لیے ووٹوں کی گٹھڑی محفوظ کرنے کے لیے تدریسی و غیر تدریسی نشستوں پر ان گنت تقررات دیے گئے۔
✦ جس کے سبب تاریکی غریب والدین کے نونہالوں کا مستقبل بن چکی ہے۔
✦ انجمن کی اسکولوں میں بے شمار طلبہ کی تعلیمی نشوونما کے کاغذوں پر ترقی کے اندراج اگرچہ اطمینان بخش پیش کیے جارہے ہوں لیکن وہ یکسر جھوٹے اور سرپرستوں سے دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔
✦ در حقیقت انجمن ادارے میں کچھ اساتذہ ضرور تدریسی فن کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن بعض اساتذہ کی فنِ درس و تدریس کے تناظر میں وہ فنی و تعلیمی سطح نہیں ہے جس تعلیمی سطح کے نصاب کی تدریسی خدمات ان سے لی جارہی ہیں۔
✦ مذکورہ معاملہ کے انکشاف کے لیے ان کے درسی کمروں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر نہایت عمیق مشاہدہ اور غیر جانب دار معائنہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔
✦ معائنہ، مشاہدہ اور جائزہ کے عمل میں آئینہ داری اور دیانت شرط ہے ورنہ کاغذ پر درج بچوں کی تعلیمی ترقی کے اندراج ناموں کے مطابق لاکھوں روپوں کی تنخواہ کے حصول کے حقدار بنے رہنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔
✦ اتنا ہی نہیں، کروڑوں کا معاشی ملیدہ (ڈونیشن کی رقم) ساتھ میں ووٹوں کی گٹھڑی اس طرح کی دوہری چال کا مطلب، نوکری کا لالچ دکھا کر نگر پریشد الیکشن میں ووٹوں کا فائدہ اٹھانے کی خاطر گذشتہ کئی برسوں سے سائنس اور ریاضی جیسے مضامین نیز دیگر اساتذہ کی خالی نشستوں پر تقررات نہیں کیے گئے۔
✦ اساتذہ کی جگہیں خالی رہتے ہوئے اساتذہ کا تقرر نہ کرنا، گویا یہ امر تو قوم کے بچوں کی تعلیمی ترقی پر رفتار شکن لگانا اور ان کی تعلیمی زندگی کو تباہ و برباد کرنے جیسا ہے، ساتھ ہی اسے عوام سے بے ایمانی اور "بچوں کا مفت اور لازمی تعلیم کا حق قانون 2009" یا دستور ہند کی دفعہ 21A کے تحت مجرمانہ فعل اور بچوں کے حق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
✦ ہزاروں زیرِ تعلیم طلبہ میں انگلیوں پر گننے لائق چند بچے جو ٹیوشن کلاسوں کی بنیاد پر میڈیکل، انجینئرنگ وغیرہ میں نمایاں کامیابی پارہے ہیں، یہ ان کے سرپرستوں اور ٹیوٹروں کا شرف (کریڈٹ) ہے۔
✦ اس کے لیے اسکول متعلقین نے اپنی پیٹھ نہیں تھپکنا چاہیے اس لیے کہ سینکڑوں بچوں کا مستقبل تاریک بنایا جا چکا ہے۔
✦ نگرپریشد کے عام انتخابات کا اعلامیہ جاری ہو چکا ہے، قوی امکانات ہیں کہ اسے نظر میں رکھتے ہوئے محترم خطیب نے انجمن ٹرسٹ کی جانب سے تدریسی و غیر تدریسی عملے کی خالی جگہیں بھرنے کے لیے بھرپور نشستوں کا (بمپر لاٹری جیسا) اخبار میں اشتہار دیا ہے۔
✦ گویا یہ ایک معمہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اچانک جگہیں خالی کیسے ہوگئیں۔
✦ یہ جگہیں ہیں بھی یا ڈونیشن اکٹھا کرنے اور انتخاب جیتنے کی چال ہے؟
✦ چونکہ حق معلومات قانون کے تحت مذکورہ معلومات دینے سے صدر مدرسین صاف انکار کر رہے ہیں۔
✦ ایک طرف اساتذہ کی خالی نشستوں کو طویل عرصے سے خالی رکھ کر غریبوں کے بچوں کی تعلیمی ترقی سے کھلواڑ ہو رہا ہے، دوسری طرف نگر پریشد الیکشن میں بازی مارنے کے لیے نوکریوں کا لالچ دکھا کر بھولی بھالی عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کا شاطرانہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
✦ بالاپور کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہاں کا نوجوان بیدار ہوتا نظر آرہا ہے۔
✦ سالہاسال سے جاری استحصال، اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم ذہنی دباؤ کی حکمت عملی، تعلیمی اعتبار سے عام عوام کو پیچھے رکھنے کی پرانی پالیسی، ٹرسٹ کے لائف ممبرز کے بیٹے، بیٹیوں یا نہایت قریبی عزیزوں کو اسکول میں نوکری پر لگانے کے بعد انہیں اپنے خوف و ہراس اور تسلط میں رکھ کر ووٹوں کی گٹھڑی کو محفوظ کرنے کا عمل، جیسی حرکتوں سے مجموعی طور پر بالاپور کا عام مسلمان بیزار اور بدظن ہوچکا ہے۔
✦ انجمن ٹرسٹ میں اجارہ داری کے نظم سے ادارے کا تعلیمی نظام انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکا ہے۔
✦ جس کی وجہ سے عوام الناس میں غصے کی لہر دیکھی جارہی ہے۔
✦ اور باشندگانِ بالاپور کی بستی کے ہر گوشے سے مسلسل یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ خطیب صاحب نے جس دن سے انجمن ٹرسٹ پر قبضہ کیا ہے اس دن سے آج تک حکومت کے ذریعہ انجمن ادارے کے سارے معاملات کی گہرائی سے تحقیق و جانچ ہونی چاہیے۔
✦ تحقیق اور جانچ کے عمل میں بچوں کی تعلیمی ترقی یا پیش رفت کے کاغذی اندراج سے منقطع بچوں کا بنفس نفیس معائنہ اور تشخیصی جانچ سے حاصل شدہ سطح کی حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے۔
✦ اسی کے ساتھ بالاپور شہر کے مختلف گوشوں سے بعض عمر رسیدہ افراد ببانگِ دہل یہ کہنے لگے ہیں کہ ناطق صاحب، ان کی اہلیہ، فرزند اور دختر کو انجمن ٹرسٹ سے ہمیشہ کے لیے باہر نکال دینا چاہیے، اس لیے کہ ان کی یا ان کے باپ دادا کی ذرہ برابر بھی قربانی ادارے کی تعمیر میں نہیں ہے۔
✦ جمہوریت کے پس پشت وراثتی طریقِ حکمرانی کا تسلط برقرار رکھنے والی نہایت گندی سیاست کرنے والوں کا آنے والے نگر پریشد الیکشن میں یقیناً سیاسی لحاظ سے خاتمہ ہوگا، ان شاءاللہ۔
✦ بالاپور شہر کا موجودہ سیاسی منظرنامہ شہر کے ہر گوشے سے اس بات کا اعلان کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
