بالاپور ناگریی سہکاری
پتسنستھا لِمِٹڈ کی جانب
سےلوگوں پرکیا گیا زبردستی ظلم و جبر
بالاپور کی عوام آج بھی اُس بڑے دھچکے کو یاد کرتی ہے جو Balapur Nagari Sahakari Patsanstha Ltd (بالاپور ناگریک سہکاری پتسنستھا لِمِٹڈ) کے مالی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کی وجہ سے لگا تھا۔
اس پتسنستھا کے بانی — سید ناطق الدین خطیب — پر لگے سنگین الزامات آج بھی عوام میں بحث کا موضوع ہیں۔
یہ کوئی عام معاملہ نہیں تھا۔بالاپور کے غریب اور شریف لوگ، جنہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس پتسنستھا میں اپنی محنت کی کمائی جمع کرائی تھی—
چھوٹے کاروباری، مزدور، خواتین، بزرگ— کسی نے 5,000 روپے لگائے، کسی نے 20,000، اور بہت سے افراد نے 50,000 روپے یا اس سے بھی زیادہ رقم کم و بیش 10 سالوں تک جمع رکھی۔
لیکن جب پٹسنسٹھا بند ہوئی توعوام کی پوری جمع پونجی ڈوب گئی، کئی شہری اب تک اپنی رقوم کی بازیابی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
بینک کے بند ہونے سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، اور لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی منٹوں میں صفر ہوگئی۔ شکایات بڑھیں، احتجاج ہوئے، اور معاملہ اکولہ کنزیومر کورٹ (2018) تک آیا — جہاں محترم محمد اقبال ستار صاحب نے باضابطہ کیس دائر کیا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہونے والی مبینہ بدانتظامی کی حقیقت سامنے آنی چاہیے۔
ہمارا کا موقف واضح ہے:
“عوام کی خون پسینے کی کمائی کسی کی بے احتیاطی یا بند کمروں کے فیصلوں کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ بالاپور کے ہر شہری کو انصاف اور اپنی رقم کی مکمل حفاظت کا حق حاصل ہے۔”
⚠️ بدانتظامی — یا منظم غبن؟
عوام آج بھی پوچھتی ہے:
کیا پتسنستھا عوام کی محنت کی کمائی کو ایمانداری سے چلانے میں ناکام رہی؟
یا یہ جان بوجھ کر لُوٹ کی گئی؟
عوام کے پیسے کا حساب کس کے پاس ہے؟
10 سال تک پیسے جمع کرنے کے باوجود آخر کیوں کوئی شفاف آڈٹ سامنے نہیں آیا؟
یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ:
بالاپور کے معصوم لوگوں کی امیدیں، خواب اور پسینہ — سب ایک سیاسی شخصیت کی بدانتظامی کی نذر? ہوگیا۔
اور آج بھی عوام انصاف، جوابدہی اور اپنی محنت کی کمائی کی واپسی کی منتظر ہے۔
یہ صرف ایک مالی نقصان نہیں — یہ پورے شہر کے اعتماد پر کاری ضرب تھی۔
بالاپور کے لوگ اب جوابدہی اور انصاف کے لیے پہلے سے زیادہ پُرعزم ہیں۔
