میرا وارڈ ، نئے دور کی نئی ترقی اور عام لوگوں کی خوشحالی کے لیے ووٹ دے گا۔
سالوں سے اپنے وارڈ کی عوام نے ہم پر اعتماد کیا اور ترقیاتی کاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آج ہم ایک بار پھر سے تجربہ، سچی نیت اور خلوص کے ساتھ آپ کی خدمت کے لیے میدان میں کھڑے ہیں۔ اور روشن نظریہ کے ساتھ ہم اپنے وارڈ کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ آئیے،ہم مل کر اپنے وارڈ کا مزید بہتر اور روشن مستقبل بنائیں۔
ڈاکٹر محمد فیّاض انصاری کا پیغام
محترم حضرات پربھاگ نمبر 9 بڑا مومن پورا و بالاپور 'السلامُ علیکم -
اس پر بھاگ سے میری لڑکی ڈاکٹر سامیہ شجر ڈاکٹر محمد فیاض حسین
اور ڈاکٹر مصباح الدین کے بھائی حافظ مفتاح الدین محمد ظہیر الدین اپ لوگوں کے درمیان کانگرس پارٹی کی ٹکٹ پر اپنی قسمت ازما رہے ہیں اور صدر بلدیہ کے لیے ڈاکٹر افرین پروین بنت محمد ضمیر عرف جمو سیٹھ امیدوار ہے اور ان تینوں کی نشانی پنجہ ہے
لہذا اپ لوگو ں پرخلوص درخواست ہے کہ تینوں کی نشانی پنجے کے سامنے کا بٹن دبا کر تینوں کو زیادہ سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب بنائیں
اپ لوگوں نے مجھے سنہ 2006 سے اج تک مستقل مومن پورا وارڈ سے کامیاب کیا ہے جس کا احسان میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا اور میں نے بھی اپ لوگوں کی امید پر پورا اترنے کی کوشش کی ہے پھر بھی ادمی غلطی کا پتلا ہے کچھ خامیاں رہی ہوں تو میں اپ تمام احباب سے اس کی معافی چاہتا ہوں
گزشتہ سالوں میں کی گئی خدمات
پچھلے سالوں میں جب میں نگر سیوک تھا اپ لوگوں کی مستقل خدمت کرتا رہا
1. مومن پورہ کے قبرستان کی شمال اور جنوب کی بانڈری وال تیار کروائی، قبرستان جانے کے لیے راستہ اور پھر اس تنگ راستے کو چوڑا کرنے کا کام کیا۔
2. پورے مومن پورہ میں ہر طرف کونکریٹ کے راستے بنائے۔
3. قبرستان میں دو جگہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے لئے تعمیر کیا، جس کی مثال کہیں نہیں ملتی، قبرستان میں لائٹ کا انتظام کیا۔
4. مومن پورہ کی ہر چھوٹی بڑی گلی میں ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹ کا انتظام کیا۔
5. مومن پورہ کی ہر مسجد کے سامنے پیورز بلاک لگوائے۔
6. دونوں گھر کل میں سب سے زیادہ مومن پورہ کے لوگوں کو پکے بنے ہوئے مکان دلوائے۔
7. قبرستان کا ٹرسٹ نہیں تھا، اسے وقف بورڈ میں رجسٹر کروایا۔
8. سنہ 2006 سے لے کر آج تک ایک دن سے لے کر پانچ سال کے بچوں کو ہر قسم کے ٹیکے مفت لگوانے کا کام کیا جو آج بھی جاری ہے۔
9. بڑے خرچ کے آپریشن میں مختلف ٹرسٹوں کے ذریعے مدد دلوائی اور تمام جیون دائی اسکیموں سے مریضوں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا۔
10. آنکھوں کا فری چیک اَپ کیمپ لے کر 600 لوگوں کو مفت چشمے واٹپ کیے اور 50 سے زیادہ لوگوں کا موتیا بند کا مفت آپریشن کروایا جو آج بھی جاری ہے۔
11. لال بنگلے سے بڑی مسجد، عبدیا کے بنگلے، غفورا مسجد سے جونی چاوڑی تک پیورز بلاک بچھانے کے کام کا سنگِ بنیاد رکھا۔
12. بھینس ندی کے پل سے بنکا تکیہ مسجد، ببّو ڈرائیور صاحب کے گھر، ندی کنارے سے چو بچے تک اور وہاں سے قبرستان جانے والے راستے تک سنگِ بنیاد کروایا۔
13. نگر پرشد میں پرشاسک ہونے کے باوجود اور مارچ اینڈنگ ہونے کے باوجود
بَنکه تکیہ مسجد سے لے کر لال بنگلہ، اور بُنکا تکیہ مسجد سے لے کر اسماعیل بھائی مسالے والے (نگروکاس کے امیدوار) کے گھر تک، اور بَنکه تکیہ مسجد سے لے کر سید پورہ تک
ڈامبر روڈ بنوایا۔
14. این آر سی اور یو پی اے کی تیاری کے لیے لوگوں کو جنم داخلے اور ضروری کاغذ بنانے میں مدد کی۔
15. امدار نتین دیشمکھ صاحب کے فنڈ سے مومن پورا قبرستان میں
ہائی ماسک لائٹ، منی ماسک لائٹ، بورنگ، ٹین شیڈ، وضو خانہ کے لیے
20 لاکھ روپے کا فنڈ منظور کروایا جس کا کام عنقریب شروع ہو جائے گا۔
16. عوام کے لیے ہمیشہ
نگر پریشد کے کام،
پولیس اسٹیشن کے کام،
پٹواری، تحصیل آفس، ایس ڈی او آفس، نزول آفس
اور دیگر سرکاری اداروں کے کاموں میں مدد کی۔
وارڈ 9 کے لیے عزائم
1. مومن پورہ قبرستان میں راستے، لائٹ، نل، وضو خانہ اور شیڈ کا کام جلد از جلد کروانا۔
2. مومن پورہ میں دونوں بنگلوں میں لائبریری کا قیام۔
3. گھر کل زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دلوانا، جو کاغذ کی کمی ہے اسے پورا کروانا، اور جن لوگوں کے گھر کل کا کام شروع ہے ان کی قسطیں جلد از جلد دلوانا۔
4. بھینس ندی کے دونوں کناروں پر پروٹیکشن وال کے ساتھ ساتھ راستہ تعمیر کروانا۔
5. بچوں، کھلاڑیوں اور چہل قدمی کرنے والوں کے لیے پلے گراؤنڈ کا قیام۔
6. مومن پورہ میں ہینڈلوم کی صنعت کی واپسی کرنا، جس کی ایک یونٹ شہر میں اکرم ممبر کے یہاں شروع ہو چکی ہے۔
7. نگر پریشد کے اسکولوں کا تعلیمی نظام بہتر کرنا۔
8. درگاہ حضرت صدیق شاہ بابا ٹرسٹ کو سیاحتی مقام (Tourist Spot) کا درجہ دلانا۔
9. مومن پورہ کی تمام مسجدوں اور درگاہوں کے احاطے میں سیمنٹ کے بینچ کا انتظام کروانا۔
10. نگر پریشد کے فنڈ کے علاوہ کانگرس کے ایم ایل سی، راجیہ سبھا کے ایم پی کے فنڈ لا کر مزید ترقیاتی کام کروانا۔
لہٰذا میرے ان کاموں اور عزائم کو دیکھتے ہوئے آپ حضرات سے گزارش ہے کہ مجھے ایک موقع دیں، تاکہ میں ان عزائم کو آپ کے لئے، مومن پورہ کے لئے پائے تکمیل تک پہنچا سکوں۔
اس لیے اپنا قیمتی ووٹ تینوں کانگریس کے امیدواروں کو پنجہ نشانی پر زیادہ سے زیادہ دے کر کامیاب بنائیں۔ شکریہ۔
بالاپور شہری سطح کے عزائم
بہتر سڑکیں اور بہتر ٹریفک مینجمنٹ
محفوظ سڑکیں، روشن گلیاں، اور ٹریفک مسائل کے مؤثر حل — ایک ترقی یافتہ بالا پور کی مضبوط بنیاد۔.
فنی تعلیم
ہنر مند نوجوان، مضبوط بالا پور کی پہچان۔
انصاف برائے مظلومین
ہر مظلوم کو انصاف ملے گا، یہی ہمارا وعدہ ہے۔
پانی کی فراہمی اور صفائی
صاف پانی، صاف شہر — سب کی زندگی بہتر۔
ہائی وے سے جڑنے والے راستے
ئے انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس — تجارت، روزگار اور ترقی کے نئے راستے۔
نوجوانوں اور بچوں کے لیے کھیل کے گراؤنڈز
صحت مند جسم، مضبوط مستقبل — کھیل ہی نوجوانوں کی اصل طاقت ہے۔
قبرستان کی حفاظتی دیواریں
عزت، تحفظ اور احترام — مقدس مقامات کے لیے مضبوط اور حفاظتی انتظامات۔
فعال اور معیاری عوامی لائبریریاں
غیر فعال عوامی لائبریریوں کو دوبارہ فعال کرنا اور ایک نئی اُردو لائبریری قائم کرنا۔
ہینڈلوم اور پاور لوم کی صنعت کی بحالی
بالاپور کی پہچان کی واپسی — مقامی دستکاری اور روزگار کو نئی زندگی دینا۔
روزگار اور خود روزگار کے مواقع
نوکریاں، ہنر اور کاروبار — مالی خود مختاری کی مضبوط راہیں۔
کچرے کا بہتر انتظام اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ
جدید صفائی کے حل — صاف ستھرا شہر اسمارٹ ری سائیکلنگ سے ممکن۔
ماحولیات اور پارکس
سرسبز بالا پور، صحت مند عوام — ہمارا خواب۔
سنگین مسائل

بالاپور انجمن انوار الاسلام کا غیر منظم
تعلیمی نظام، بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ
بالاپور کی انجمن انوار الاسلام پر چند افراد نے قبضہ کرکے اس کے جمہوری نظام کو ختم کردیا، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، تعلیمی زوال اور طلبہ کے مستقبل کی تباہی ہوئی۔ اب عوام انصاف، شفافیت اور ادارے کے اصل مقصد کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بالاپور ناگریی سہکاری پتسنستھا لِمِٹڈ کی
جانب سےلوگوں پر زبردستی ظلم و جبر
بالاپور کی عوام آج بھی بالاپور ناگریی سہکاری پتسنستھا لِمِٹڈ کی مالی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے اُس بڑے دھچکے کو نہیں بھولی۔ اس پتسنستھا کے بانی، سید ناطق الدین خطیب پر آج بھی سنگین الزامات زیرِ بحث ہیں۔ غریب اور محنت کش شہریوں نے 5,000 سے 50,000 روپے تک کی اپنی زندگی بھر کی کمائی تقریباً دس سال تک جمع رکھی، مگر پتسنستھا بند ہوتے ہی سب کچھ ڈوب گیا۔ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، احتجاج ہوئے، اور معاملہ کنزیومر کورٹ تک پہنچا۔


وقف املاک پر قبضہ — مقامی حکام کی خاموش چوری
وقف کی جائیدادیں — جو غریبوں کی مدد، تعلیم، اور سماجی بھلائی کے لیے وقف کی گئی تھیں — آہستہ آہستہ کچھ مقامی حکام کی غیرقانونی سرگرمیوں کی نذر ہوتی جارہی ہیں۔ قیمتی وقف کی زمینیں، دکانیں اور عمارتیں برسوں سے ناجائز طریقوں سے استعمال کی جارہی ہیں، قبضہ کی جارہی ہیں یا بغیر اجازت بااثر افراد کے حوالے کی جارہی ہیں۔ یہ صرف زمین کا معاملہ نہیں — یہ انصاف، شفافیت اور ہماری اجتماعی امانت کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ بدلا گیا، سرحدیں تبدیل کی گئیں، اور “ترقی” کے نام پر وقف کی ملکیتیں چوری کرلی گئیں۔ اس کا نتیجہ؟ وقف کی جائیدادیں کم ہوتی جارہی ہیں، اور ذمہ دار افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔





